ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کانپور میں سڑک پر عید کی نماز پڑھنے پر 1700 مسلمانوں پر ایف آئی آر، پرسنل لا بورڈ نے ظاہر کی تشویش، کیا ملک صرف ایک مذہب کا ہوگیاہے؟

کانپور میں سڑک پر عید کی نماز پڑھنے پر 1700 مسلمانوں پر ایف آئی آر، پرسنل لا بورڈ نے ظاہر کی تشویش، کیا ملک صرف ایک مذہب کا ہوگیاہے؟

Fri, 28 Apr 2023 22:56:22    S.O. News Service

کانپور،28/اپریل(ایس او نیوز؍ایجنسی) عیدگاہ میں جگہ فل ہونے کے بعد سڑک پر عید کی نماز پڑھنا مجبوری ہے اور سال میں دو منائے جانے والے عید کے موقعوں پر لوگ سڑکوں پر نماز پڑھتے آئے ہیں، لیکن اس بار ایسا لگتا ہے کہ ملک میں مسلمانوں کا دائرہ تنگ کیا جارہا ہے۔

ذرائع کی مانیں تو امسال کانپور میں سڑک پر عید کی نماز پڑھنے پر 1700 مسلمانوں کے خلاف 3 تھانوں میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ پولیس کا الزام ہے کہ پابندی کے باوجود 22 / اپریل کو جاجما، بابو پوروا اور بڑی عیدگاہ بینجہبار کے باہر سڑک پر نماز ادا کی گئی۔ جاجما میں 200 سے 300، بابو پوروا میں 40 سے 50، بجریا میں 1500 نمازیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ان میں عیدگاہ کمیٹی کے ارکان بھی شامل ہیں۔

بیگم پوروا چوکی کے انچارج برجیش کمار نے کہا کہ عید سے پہلے امن کمیٹی کی میٹنگ ہوئی تھی۔ اس میں اہل علاقہ کو بتایا گیا تھاکہ نماز سڑک پر نہیں پڑھی جائے گی۔ عید کی نماز صرف عیدگاہ اور مسجد کے اندر ادا کی جائے گی۔

یہ بھی بتایا گیاتھا کہ ہجوم کی وجہ سے اگر کوئی نمازی نماز سے چھوٹ جاتا ہے تو پولیس کی جانب سے اس کی دوبارہ نماز ادا کرنے کے انتظامات کیے جائیں گے۔عید کے دن 22 /اپریل کو صبح 8 بجے عید گاہ میں نماز شروع ہونے سے کچھ دیر پہلے اچانک ہزاروں کا مجمع عیدگاہ کے سامنے والی سڑک پر جمع ہوگیا۔ پابندی کے باوجود سب نے سڑک پر چٹائیاں بچھا کر نماز پڑھنی شروع کر دی۔ پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی، اس کے بعد بھی وہ نہیں مانے۔اس دوران ضلع میں دفعہ 144 بھی نافذ تھی۔ جس کی وجہ سے چوکی انچارج کی شکایت پر پولیس نے عیدگاہ کمیٹی کے ارکان اور وہاں نماز پڑھنے والوں کے خلاف سنگین دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرکے تفتیش شروع کردی۔ سڑک پر نماز پڑھنے والوں کی شناخت سی سی ٹی وی فوٹیج سے کی جا رہی ہے۔

واقعے پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ(اے آئی ایم پی ایل بی)نے ایف آئی آر پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف کی جانے والی یکطرفہ کارروائی پر سخت تشویش ظاہر کی ہے۔ بورڈ کے رکن محمد سلیمان نے کہاکہ ایک خاص فرقے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان ایک ہی مذہب کاہوکررہ گیاہے۔نماز کیمپس کے اندر مسجد اور عیدگاہوں میں ادا کی گئی ہے۔ بابوپوروا میں اتنی بڑی عیدگاہ نہیں ہے۔ اگر 10 منٹ کیلئے جگہ میسر نہ ہو تو نمازی سڑک پر نماز پڑھتے ہیں۔ بابوپوروا میں بھی سڑک پر اسی طرح نماز ادا کی گئی، لیکن بابوپوروا کے سب انسپکٹر نے ایف آئی آر درج کرائی۔یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ یہ مقدمہ سڑک پر نماز ادا کرنے کا نہیں بلکہ عوامی خدمت میں رکاوٹ ڈالنے کا ہے، جو ایک سنگین جرم ہے اور اسے دوسرے وبائی قانون کے تحت طلب کیا گیا ہے۔ یہ ہماری حکومت کی ذہنیت ہے، جس پر ایسے پرجوش پولیس والے کام کر رہے ہیں۔ یہ قابل مذمت ہے، معاشرے کیلئے اچھا نہیں۔


Share: